اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ نیویارک میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے رابطے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے سے قبل ایک موقع، شاید آخری موقع، ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال خطے میں فوجی محاذ آرائی کے پھیلاؤ کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
لبنان کے اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، ایسے وقت میں جب قطر اور پاکستان سمیت ثالث فریق رابطوں کے چینلز کو منظم کرنے اور کسی بڑے تصادم کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے میں مصروف ہیں، چین ایک زیادہ بااثر فریق کے طور پر پس منظر میں نمایاں ہوا ہے۔ اگرچہ چین کا کردار عوامی سطح پر قطر اور پاکستان کی ثالثی کی طرح نمایاں نہیں رہا، تاہم بیجنگ کا کردار صرف پیغامات کی ترسیل تک محدود نہیں ہے اور چین کے پاس سیاسی و اقتصادی اثر و رسوخ موجود ہے جو اسے فریقین کے فیصلوں پر زیادہ اثر انداز ہونے کی صلاحیت دیتا ہے۔
اسی وجہ سے چین پر انحصار کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان گنجائش ہر گزرتے دن کے ساتھ محدود ہوتی جا رہی ہے۔
مذاکرات شروع کرنے کی شرائط پر اختلاف
تاہم نیویارک میں رابطوں کے نئے دور سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کا چینل قائم ہونا، چاہے وہ براہ راست ہی کیوں نہ ہو، دونوں ملکوں کو حقیقی مذاکرات کی طرف لے جانے کے لیے کافی نہیں۔ اس ملاقات سے ظاہر ہوا کہ بنیادی اختلاف اب مذاکرات شروع کرنے کی شرائط پر بھی مرکوز ہو گیا ہے۔
ایران آبنائے ہرمز کو امریکہ سے ابتدائی مراعات حاصل کرنے کے لیے ضمانت کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتا ہے، جن میں بحری ناکہ بندی ختم کرنا، تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہیں۔
اس کے مقابلے میں امریکہ بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو ان مطالبات سے منسلک کرنے پر آمادہ نہیں اور مختلف محاذوں پر اپنا دباؤ جاری رکھے ہوئے ہے، اگرچہ ساتھ ہی مسلسل مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی کا بھی اظہار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر عراقچی کی امریکی نمائندوں سے ملاقات
رابطوں کے نئے دور کا آغاز اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکہ کے نمائندوں اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات سے ہوا۔
ایرانی صدا و سیما کی رپورٹ کے مطابق، یہ ملاقات امریکی فریق کی درخواست اور اصرار پر ہوئی اور تہران نے اس پر رضامندی ظاہر کی تاکہ واشنگٹن کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے حوالے سے اپنی شرائط سے آگاہ کیا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملاقات کو نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو بحران کو جلد ختم کر دے۔
تاہم ایران کی جانب سے اس ملاقات کی تصویر مختلف تھی۔ ایرانی مؤقف کے مطابق عراقچی نے امریکی فریق کو بتایا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی شرط فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کرنا، ایران کے منجمد اثاثے آزاد کرنا اور تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بعد میں وضاحت کی کہ یہ ملاقات ان رابطوں کے سلسلے میں ہوئی جو اس سے قبل قطری ثالث کے ذریعے جاری تھے اور اس کا مقصد پیغامات کا تبادلہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے مطالبات میں امریکہ کی جارحانہ کارروائیاں روکنا اور ایران و عمان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی بنیاد پر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کو تسلیم کرنا شامل ہے۔
ملاقات کے بعد ٹرمپ کی دھمکیاں
ملاقات کے بعد ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کو اقتصادی اور مالی طور پر تنہا کر دیا ہے۔
انہوں نے ایران پر عائد پابندیوں اور ناکہ بندی کو سب سے زیادہ سخت دباؤ قرار دیتے ہوئے اپنے دعوے کے مطابق ایرانی رہنماؤں سے کہا کہ دیر ہونے سے پہلے موجودہ موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ تہران کے پاس معاہدے تک پہنچنے کے لیے بہت کم وقت ہے اور بحران امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں ختم ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ان کا ملک ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
امریکی وزارت خارجہ نے بھی اعلان کیا کہ ٹرمپ نے ایرانی فریق کے سامنے ایک واضح راستہ رکھا ہے اور واشنگٹن ایسے کسی منظرنامے کو قبول نہیں کرے گا جس میں تہران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے بارے میں فیصلہ کرے۔
اختلافات بدستور برقرار
ٹرمپ کی جانب سے ظاہر کی گئی امید کے باوجود عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم نے سفارت کاروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے درکار کم از کم پیش رفت بھی حاصل نہیں ہو سکی۔
رائٹرز نے بھی ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان اب بھی بہت سے اختلافات موجود ہیں، تاہم سفارتی رابطے جاری ہیں۔
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بھی کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی پیشکش پر امریکی جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔
تہران نے اپنی شرائط مزید سخت کر دیں
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے مذاکرات کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے اپنی شرائط مزید سخت کر دی ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اعلان کیا کہ ایران نے امریکہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے پہلے ایران کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے پانچ دن کی مہلت دی ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کو مذاکرات کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو پہلے اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
رضائی نے مزید کہا کہ ایران گزشتہ سفارتی طریقہ کار کی طرف واپس نہیں جائے گا اور تہران نے اپنے مطالبات ثالث ممالک کو بتا دیے ہیں۔
واشنگٹن: معاہدے کے لیے مشکل کوشش درکار ہے
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن کی مذاکرات کے لیے آمادگی پر زور دیا، تاہم کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے سخت کوشش کرنا ہوگی۔
روبیو نے نیویارک میں ہونے والی پیش رفت کو بڑی حد تک خیالات اور پیغامات کے تبادلے کے طور پر بیان کیا۔
انہوں نے مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ جنگ کے راستے کا فیصلہ ٹرمپ کریں گے۔ روبیو نے مزید کہا کہ امریکی حکومت بحران کے مستقل حل کی تلاش میں ہے۔
نیویارک روانگی سے قبل نیتن یاہو کا ’’حیران کن اقدام‘‘ کا وعدہ
صیہونی ریاست کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے لیے مختصر دورے پر نیویارک پہنچے۔ ایسے وقت میں ایران کا معاملہ ان کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے اور یہ دورہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور تل ابیب کی جانب سے ممکنہ دوبارہ محاذ آرائی کی تیاریوں کے دوران ہو رہا ہے۔
عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت نے نیتن یاہو کے معاونین کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ان کی تقریر میں ایران پر خاص توجہ دی جائے گی اور اس میں ایسے حیران کن اقدامات کا ذکر ہوگا جن کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔
اسی دوران صیہونی ریاست کے چینل 13 نے رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو نے نئی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ یہ جائزہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب فوجی اندازوں کے مطابق ایران کے ساتھ محاذ آرائی کا امکان موجود ہے، جو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے مقبوضہ فلسطین سے ان کی روانگی کے وقت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اس چینل نے صیہونی ریاست کے ایک اعلیٰ فوجی افسر کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ فوج تین منظرناموں کے لیے تیار ہو رہی ہے۔ پہلے منظرنامے میں ایران کی جانب سے میزائل حملہ اور اس کے بعد صیہونی ریاست کا وسیع ردعمل شامل ہے۔ دوسرے منظرنامے میں امریکی حمایت کے ساتھ وسیع محاذ آرائی شامل ہے۔ جبکہ تیسرا منظرنامہ صیہونی ریاست کی جانب سے ایران کے اندرونی علاقوں پر آزادانہ فضائی حملہ ہے۔
فوجی کامیابیوں کو سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنے میں مشکلات
صیہونی ریاست کی جانب سے جنگ دوبارہ شر
آپ کا تبصرہ